مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ . باب: سترہ کے بغیر نماز ادا کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَنَزَلْنَا عَنْهُ وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ يَأْكُلُ مِنْ بَقَلِ الْأَرْضِ - أَوْ قَالَ : "نَبَاتِ الْأَرْضِ" - فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَكَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ ؟ قَالَ : لَا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : أَكَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ فَقَالَ : لَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں اور بنوہاشم سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان گدھے پر سوار ہو کر آئے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ہم اس جانور سے اتر گئے ہم نے اس گدھے کو چھوڑ دیا تاکہ وہ زمین کے سبزے میں سے کھا پی لے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) زمین کے نباتات میں سے کھا پی لے پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز میں شامل ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : کیا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی نیزہ ( سترہ کے طور پر لگا ہوا ) تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی نیزہ موجود تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔