مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ . باب: نماز کو کوئی چیز منقطع نہیں کرتی ہے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، فَذَهَبَتْ شَاةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَاعَاهَا حَتَّى أَلْزَقَهَا بِالْحَائِطِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ ، وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ: يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ التَّمَّارُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے ایک بکری آئی اور آپ کے آگے سے گزرنی لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روکنے کی کوشش کی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز کو کوئی چیز منقطع نہیں کرتی ہے ، لیکن تم سے جہاں تک ہو سکے ( آگے سے گزرنے والے کو ) پرے کرو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن میمون تمار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔