مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ بِالنَّعْلَيْنِ . باب: جوتوں میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2255
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يَخْلَعْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ فَيَأْثَمَ، وَلَا مِنْ خَلْفِهِ فَيَأْثَمَ بِهِمَا صَاحِبُهُ، وَلَكِنْ لِيَخْلَعْهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ زِيَادٌ الْجَصَّاصُ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص نماز ادا کرتے ہوئے جوتے اتارے تو وہ اتار کر دائیں طرف نہ رکھے ورنہ وہ گناہ گار ہو گا ، اور اپنے پیچھے بھی نہ رکھے ورنہ اس کے ذریعے اپنے ساتھی کو گناہگار کرے گا وہ انہیں اتار کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد جصاص ہے ، اسے یحیی بن معین اور ابن مدینی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔