مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : " خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " وَنَحْوِ ذَلِكَ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان ” تمہارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو اور اس کی مانند (دیگر فرامین کا تذکرہ)
حدیث نمبر: 220
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِتَشْدِيدِهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ ، وَسَتَجِدُونَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارَاتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنی ذات کے حوالے سے شدت اختیار نہ کرو ! کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ ، اپنی ذات کے حوالے سے شدت اختیار کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے اور اُن لوگوں کے بقایا جات کو تم گرجا گھروں اور مندروں میں پاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث بن سعد کا کاتب ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔