مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : " خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " وَنَحْوِ ذَلِكَ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان ” تمہارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو اور اس کی مانند (دیگر فرامین کا تذکرہ)
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَةٍ ، وَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي بَيْنَ يَدَيَّ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا ، فَإِذَا نَحْنُ بَيْنَ أَيْدِينَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَرَاهُ يُرَائِي ؟ " فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَتَرَكَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، ثُمَّ جَمَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يُصَوِّبُهُمَا وَيَرْفَعُهُمَا ، وَيَقُولُ : " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں کسی کام کے سلسلے میں باہر نکلا ، تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے جا رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ایک ساتھ چلنے لگے ، ہمیں اپنے سامنے ایک شخص نظر آیا ، جو نماز ادا کر رہا تھا اور بکثرت رکوع و سجود کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اس شخص کے بارے میں ، تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ دکھاوا کر رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اپنے دونوں ہاتھ ملا لئے ، انہیں نیچے کیا ، پھر انہیں بلند کیا اور پھر ارشاد فرمایا : ” تم پر میانہ روی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے ، تم پر میانہ روی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے ، تم پر میانہ روی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے ، کیونکہ جو شخص اس دین کے بارے میں سختی سے کام لے گا ، یہ دین اس پر غالب آ جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔