حدیث نمبر: 2172
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتَيِ الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ ؛ فَأَمَّا اللَّبَنُ فَيَنْتَجِعُ أَقْوَامٌ بِحُبِّهِ فَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَةُ وَالْجَمَاعَاتِ ، وَأَمَّا الْكِتَابُ فَيُفْتَحُ لِأَقْوَامٍ مِنْهُ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ وَبِغَيْرِ لَفْظِهِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَيَأْتِي غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْجُمُعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ کتاب اور دودھ کا ہے جہاں تک دودھ کا تعلق ہے ، تو کچھ لوگ اس کی محبت میں جمعہ اور باجماعت نمازوں کو ترک کر دیں گے اور جہاں تک کتاب کا تعلق ہے ، تو اس کا علم کچھ لوگوں کے لئے کھول دیا جائے گا اور وہ اس کے ذریعے اہل ایمان کے ساتھ بحث کریں گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، تاہم ان کے الفاظ مختلف ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیہ ہے ۔ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے علاوہ دوسری روایات جمعہ سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2172
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف