حدیث نمبر: 2154
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : كَانَتْ لَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ وَالْمَطَرِ فَقُلْتُ : لَوْ أَنِّي اغْتَنَمْتُ اللَّيْلَةَ شُهُودَ الْعَتَمَةِ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَعَلْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَنِي وَمَعَهُ عُرْجُونٌ يَمْشِي عَلَيْهِ فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا قَتَادَةُ هَا هُنَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " فَقُلْتُ : اغْتَنَمْتُ شُهُودَ الْعَتَمَةِ مَعَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَأَعْطَانِي الْعُرْجُونَ فَقَالَ : " إِنِ الشَّيْطَانَ قَدْ خَلَفَكَ فِي أَهْلِكَ فَاذْهَبْ بِهَذَا الْعُرْجُونِ فَأَمْسِكْ بِهِ حَتَّى تَأْتِيَ بَيْتَكَ فَخُذْهُ مِنْ زَاوِيَةِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ بِالْعُرْجُونِ فَخَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَضَاءَ الْعُرْجُونُ مِثْلَ الشَّمْعَةِ نُورًا، فَاسْتَضَأْتُ بِهِ فَأَتَيْتُ أَهْلِي فَوَجَدْتُهُمْ قَدْ رَقَدُوا، فَنَظَرْتُ فِي الزَّاوِيَةِ فَإِذَا فِيهَا قُنْفُذٌ فَلَمْ أَزَلْ أَضْرِبُهُ بِالْعُرْجُونِ حَتَّى خَرَجَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَيَأْتِي حَدِيثٌ عِنْدَ أَحْمَدَ أَطْوَلُ مِنْ هَذَا فِي الْجُمُعَةِ وَالسَّاعَةِ الَّتِي فِيهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات بہت زیادہ تاریک اور بارش والی تھی میں نے سوچا اگر میں آج کی رات یہ غنیمت حاصل کر لوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عشاء کی نماز میں شریک ہو جاؤں تو یہ مناسب ہو گا ، تو میں نے ایسا ہی کیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس کے ساتھ ٹیک لگا کر آپ چلتے تھے آپ نے فرمایا : اے قتادہ ! کیا وجہ ہے تم اس وقت یہاں کیوں ہو ؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے آپ کے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضری کو غنیمت سمجھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شاخ مجھے عطا کی اور فرمایا شیطان تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں کے پاس آ گیا تھا تم یہ شاخ لے جاؤ اور اسے اس وقت تک پکڑ کے رکھنا جب تک تم اپنے گھر نہیں پہنچ جاتے اور پھر اپنے گھر کے ہر ایک گوشے میں یہ شاخ مارنا ( سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں مسجد سے نکلا تو وہ شاخ یوں روشن ہو گئی جیسے شمع روشن ہوتی ہے ، میں اس کی روشنی میں چلتا ہوا اپنے گھر آیا جب میں اپنے گھر آیا تو میں نے اپنے گھر والوں کو پایا کہ وہ سو چکے تھے میں نے گھر کے ایک گوشے میں جائزہ لیا تو وہاں ایک قنفذ موجود تھا میں اُسے مسلسل چھڑی کے ذریعے مارتا رہا یہاں تک کہ وہ باہر چلا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے آگے چل کر ایک حدیث آئے گی ، جسے امام أحمد نے نقل کیا ہے وہ اس سے زیادہ طویل حدیث ہے وہ جمعہ اور اس میں موجود مخصوص گھڑی سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2154
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن