مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : " خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " وَنَحْوِ ذَلِكَ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان ” تمہارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو اور اس کی مانند (دیگر فرامین کا تذکرہ)
وَعَنْ عُرْوَةَ الْفُقَيْمِيِّ قَالَ : كُنَّا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ رَجُلٌ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مِنْ وُضُوءٍ أَوْ غُسْلٍ ، فَصَلَّى ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ دِينَ اللَّهِ فِي يُسْرٍ " - ثَلَاثًا يَقُولُهَا - وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : جَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي كَذَا ؟ مَا تَقُولُ فِي كَذَا ؟ مَا تَقُولُ فِي كَذَا ؟ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَغَاضِرَةُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عَاصِمٍ هَذَا - هَكَذَا ذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ . ¤سیدنا عروہ فقیمی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ اللہ کے رسول کا انتظار کر رہے تھے ( یعنی ہم نے انہیں پہلے نہیں دیکھا تھا ) ایک صاحب تشریف لائے ، جن کے سر سے وضو ، یا شاید غسل کی وجہ سے ، پانی کے قطرے چمک رہے تھے ، انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے ، تو لوگوں نے اُن سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا اس صورت میں ہم پر کوئی گناہ ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ کا دین آسانی میں ہے ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، ( یہاں یزید نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا : اے اللہ کے رسول ! افلاں صورت کے بارے میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں ؟ فلاں صورت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں ؟ فلاں صورت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں ؟
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ہلال ہے ، جسے ابوحاتم اور امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، حاضرہ نامی راوی سے عاصم نامی اس راوی کے علاوہ ، اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، امام مزی نے اسی طرح اُس کا ذکر کیا ہے ۔