مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَالصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ . باب: عشاء کی نماز اور صبح کی نماز باجماعت ادا کرنا
وَعَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَشْهَدُهُمَا مُنَافِقٌ " ، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعَشَاءِ قَالَ أَبُو بِشْرٍ : يَعْنِي لَا يُوَاظِبُ عَلَيْهِمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو عُمَيْرِ بْنُ أَنَسٍ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ أَبِي بَشِيرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤ابوعمیر بن انس نے اپنے چچاؤں کے حوالے سے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، یہ بات نقل کی ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ان دونوں ( یعنی عشاء اور فجر کی باجماعت نمازوں ) میں کوئی منافق شریک نہیں ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء اور صبح کی نمازیں تھیں ابوبشر کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان دونوں کو باقاعدگی سے ادا نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعمیر بن انس ہے ابوبشیر جعفر بن ابووحشیہ کے علاوہ اور کسی کو میں نے اس راوی سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔