حدیث نمبر: 2118
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّمَا النِّسَاءُ عَوْرَةٌ وَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا وَمَا بِهَا مِنْ بَأْسٍ، فَيَسْتَشْرِفُهَا الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ : إِنَّكِ لَا تَمُرِّينَ بِأَحَدٍ إِلَّا أَعْجَبْتِيِهِ، وَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَلْبَسُ ثِيَابَهَا فَيُقَالُ : أَيْنَ تُرِيدِينَ ؟ فَتَقُولُ : أَعُودُ مَرِيضًا أَوْ أَشْهَدُ جَنَازَةً أَوْ أُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ ، وَمَا عَبَدَتِ امْرَأَةٌ رَبَّهَا مِثْلَ أَنْ تَعْبُدَهُ فِي بَيْتِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : خواتین پردے کی چیز ہیں جب کوئی عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے ، جب کہ اسے کوئی حرج نہ ہو ، تو شیطان اس کی طرف جھانک کر دیکھتا ہے ، اور یہ کہتا ہے تم جس بھی شخص کے پاس سے گزرو گی تم اسے اچھی لگو گی ، اور جب کوئی عورت عمدہ لباس پہنتی ہے ، اور اس سے کہا: جاتا ہے تم کہاں جانا چاہتی ہو وہ کہتی ہے : میں بیمار کی عیادت کرنا چاہتی ہوں یا جنازے میں شریک ہونا چاہتی ہوں یا مسجد میں نماز ادا کرنا چاہتی ہوں تو کوئی بھی عورت اپنے پروردگار کی عبادت اس کی مانند نہیں کرتی جس طرح کی عبادت وہ اپنے گھر میں کر سکتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح