مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ، وَصَلَاتِهِنَّ فِي بُيُوتِهِنَّ وَصَلَاتِهِنَّ فِي الْمَسْجِدِ . باب: خواتین کا مساجد کی طرف جانے کے لئے یا کسی اور کام کے لئے نکلنا اور ان کا اپنے گھروں میں نماز ادا کرنا اور ان کا مسجد میں نماز ادا کرنا
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ فِي جِنَازَةِ قَتِيلٍ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : "لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ " . ¤ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” خواتین کی جماعت ( یا اکٹھے ہونے ) میں بھلائی نہیں ہے البتہ مسجد میں ( ان کے باجماعت نماز ادا کرنے کا ) معاملہ مختلف ہے یا کسی مقتول کے جنازے میں ( ان کے اکھٹے ہونے ) کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” خواتین کی جماعت ( یا اکٹھے ہونے ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے البتہ با جماعت نماز والی مسجد کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔