مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي كَرَامَةِ الْمَسَاجِدِ وَمَا نُهِيَ عَنْ فِعْلِهِ فِيهَا مِنْ تَشْبِيكِ الْأَصَابِعِ وَإِقَامَةِ الْحُدُودِ وَالْبَيْعِ وَنَحْوِ ذَلِكَ . باب: اسی سے متعلق بیان ، مسجد کی کرامت کا بیان اور مسجد میں جن کاموں کو کرنے سے منع کیا گیا ہے جیسے انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کرنا حدود قائم کرنا کوئی چیز فروخت کرنا اور اس طرح کے دیگر امور
وَعَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا مُشَبِّكًا أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَفْطَنِ الرَّجُلُ لِإِشَارَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ ، فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے غلام بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ مسجد میں داخل ہوئے تو مسجد کے درمیان میں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا وہ احتباء کے طور پر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا لیکن اس شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ سمجھ میں نہیں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص مسجد میں موجود ہو تو وہ اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل نہ کرے کیونکہ انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، اور کوئی شخص جب تک مسجد میں موجود رہتا ہے وہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔