حدیث نمبر: 2029
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَدْمَنَ الِاخْتِلَافَ إِلَى الْمَسَاجِدِ أَصَابَ أَخًا مُسْتَفَادًا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَعِلْمًا مُسْتَظْرَفًا، وَكَلِمَةً تَدْعُوهُ إِلَى الْهُدَى، وَكَلِمَةً تَصْرِفُهُ عَنِ الرَّدَى ، وَتَرَكَ الذُّنُوبَ حَيَاءً وَخَشْيَةً ، أَوْ نِعْمَةً ، أَوْ رَحْمَةً مُنْتَظَرَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ الْإِسْكَافُ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے نانا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مساجد کی طرف باقاعدگی سے آتا جاتا ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر ( محبت رکھنے والا ) کوئی بھائی مل جاتا ہے یا ایسا علم مل جاتا ہے ، جو حاصل کیا جائے یا ایسی بات مل جاتی ہے ، جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتی ہے یا ایسا کلمہ مل جاتا ہے ، جو خرابی سے پھیر دیتا ہے ، اور ایسا شخص حیاء کی وجہ سے گناہوں کو ترک کر دیتا ہے یا اسے خشیت ملتی ہے یا نعمت ملتی ہے یا ایسی رحمت ملتی ہے ، جس کا انتظار کیا جاتا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف اسکاف ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف