مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمَسَاجِدِ الْمُشْرِفَةِ وَالْمُزَيَّنَةِ . باب: اونچی یا آراستہ مسجد کا بیان
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَتِ الْأَنْصَارُ : إِلَى مَتَى يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هَذَا الْجَرِيدِ ؟ فَجَمَعُوا لَهُ دَنَانِيرَ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : نُصْلِحُ هَذَا الْمَسْجِدَ وَنُزَيِّنُهُ ، فَقَالَ : " لَيْسَ لِي رَغْبَةٌ عَنْ أَخِي مُوسَى ، عَرِيشٌ كَعَرِيشِ مُوسَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خِرَاشٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار نے سوچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کب تک کھجور کی اس شاخ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہیں گے ان لوگوں نے اس کے لئے دینار جمع کیے اور وہ دینار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : اس رقم کے ذریعے ہم مسجد کو ٹھیک کر دیں گے اور اسے آراستہ کر دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات میں دلچسپی نہیں ہے کہ میں اپنے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے طریقے سے منہ موڑوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کی طرح چھپر ( یعنی شاخوں سے بنی ہوئی چھت ) ہونا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ عجلی ابن حبان اور ایک روایت کے مطابق ابن خراش نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔