مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْقِبْلَةِ . باب: قبلہ کے بارے میں اجتہاد کرنا
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمِ غَيْمٍ فِي سَفَرٍ إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ ! فَقَالَ : " قَدْ رُفِعَتْ صَلَاتُكُمْ بِحَقِّهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو عَبْلَةَ وَالِدُ إِبْرَاهِيمَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَاسْمُهُ شِمْرُ بْنُ يَقْظَانَ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے سفر کے دوران بادل والے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی جس میں رُخ قبلہ کی طرف نہیں تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی اور سلام پھیر دیا تو سورج روشن ہو گیا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے قبلہ کی طرف کے علاوہ رُخ کر کے نماز ادا کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کی نماز اس کے حق کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اٹھا لی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبلہ ہے ، جو ابراہیم کا والد ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” انتقات “ میں کیا ہے ، اس کا نام شمر بن یقظان ہے ۔