حدیث نمبر: 196
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا ، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُيَيْنَةَ إِلَّا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْقُلْزُمِيُّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اہل ایمان میں سب سے زیادہ کامل ایمان اُس کا ہے ، جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو ، وہ لوگ جو ( دوسروں سے الفت رکھتے ہیں ، اور اُن سے اُلفت رکھی جاتی ہے ، اور ایسے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو الفت نہیں رکھتا ہو ، اور جس سے اُلفت نہیں رکھی جاتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں محمد بن علی نامی راوی کے حوالے سے ، اسے صرف یعقوب بن ابوعباد قلزمی نے روایت کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) اور میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جس نے اُس کا ذکر کیا ہو ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 196
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 4422»