حدیث نمبر: 1958
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَبَايَعَهُ [ فِي الْمَسْجِدِ ] ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَامَ فَفَشَجَ فَبَالَ ، فَهَمَّ النَّاسُ بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقْطَعُوا عَلَى الرَّجُلِ بَوْلَهُ " ، ثُمَّ دَعَا بِهِ فَقَالَ : " أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ ؟ " قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ بُلْتَ فِي الْمَسْجِدِ ؟ " قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا ظَنَنْتُ إِلَّا أَنَّهُ صَعِيدٌ مِنَ الصُّعُدَاتِ فَبُلْتُ فِيهِ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے مسجد میں آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا پھر وہ مڑ گیا پھر وہ کھڑا ہوا ، اس نے اپنی ٹانگیں پھیلائیں اور پیشاب کرنے لگا لوگ اس کی طرف بڑھنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص کو پیشاب کرنے کے درمیان نہ روکو پھر آپ نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم نے مسجد میں پیشاب کیوں کیا ہے ، اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں نے تو یہی گمان کیا ہے یہ بھی ایک زمین ہے ، تو میں نے اس میں پیشاب کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا پانی کا ایک ڈول لایا گیا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔