مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْأَذَانِ . باب: جو شخص اذان ہونے کے بعد مسجد سے باہر چلا جائے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ بَعْدَمَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ : أَمَّا هَذَا فَقَدَ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ ( ان کی موجودگی میں ) مؤذن کے اذان دینے کے بعد ، ایک شخص مسجد سے باہر چلا گیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شخص نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ جب تم لوگ مسجد میں موجود ہو اور اذان دے دی جائے تو کوئی شخص نماز ادا کرنے سے پہلے باہر نہ جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام مسلم اور امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔