مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ أَجْرِ الْمُؤَذِّنِ . باب: مؤذن کا معاوضہ
وَعَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَكِنِّي أُبْغِضُكَ فِي اللَّهِ ، قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : إِنَّكَ تَتَغَنَّى فِي أَذَانِكَ وَتَأْخُذُ عَلَيْهِ أَجْرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَحْيَى الْبَكَّاءُ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ : كَانَ ثِقَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤یحیی بکاء ، رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تم سے بغض رکھتا ہوں اس شخص نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ تم اذان گا کر دیتے ہو اور اس کا معاوضہ وصول کرتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بکاء ہے ، جسے امام أحمد امام ابوزرعہ امام ابوحاتم اور امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن سعید القطان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے محمد بن سعد کہتے ہیں : اگر اللہ نے چاہا تو یہ ” ثقہ “ ہو گا ۔