مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ أَذَانِ الْأَعْمَى . باب: نابینا شخص کا اذان دینا
حدیث نمبر: 1907
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ مِنْ هَذَا فِي الصِّيَامِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا لِمَا وَرَدَ مِنْ كَرَاهِيَةِ أَذَانِ الْأَعْمَى . ¤محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بلال رات میں ہی ( یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی ) اذان دے دیتا ہے ، تو تم کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث روزوں سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا میں نے اس کا ذکر اس لئے کیا ہے کیونکہ نابینا شخص کے اذان دینے کا مکروہ ہونا منقول ہے ۔