مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ أَذَانِ الْأَعْمَى . باب: نابینا شخص کا اذان دینا
حدیث نمبر: 1906
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مُؤَذِّنُوكُمْ عُمْيَانَكُمْ ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَلَا قُرَّاؤُكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تمہارے مؤذن تمہارے نابینا لوگ ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: تھا کہ تمہارے قاری ( تمہارے نابینا لوگ ہوں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔