حدیث نمبر: 1903
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتَنَا نَتَنَافَسُ فِي الْأَذَانِ بَعْدَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ يَكُونُ بَعْدِي - أَوْ بَعْدَكُمْ - قَوْمٌ سَفَلَتُهُمْ مُؤَذِّنُوهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” امام ضامن ہوتا ہے ، اور مؤذن امین ہوتا ہے اے اللہ ! اماموں کی رہنمائی فرما اور اذان دینے والوں کی مغفرت کر دے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں ایسی حالت میں کر دیا ہے کہ آپ کے بعد ہم اذان کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کریں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے بعد ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن کے مؤذن ان کے بے وقوف لوگ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1903
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن