حدیث نمبر: 1901
وَعَنْ أَبِي أُسِيدٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ جَاءَهُ أَبُو مَحْذُورَةَ فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي أَنْ أُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَذِّنْ " ، فَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَلَّفَ أَبُو مَحْذُورَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ الَّذِي رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي الْخِلَافَةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اذان دیا کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اذان دو تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیا کرتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے تو پھر سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث جسے امام ترمندی نے روایت کیا ہے وہ خلافت سے متعلق باب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1901
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔