حدیث نمبر: 190
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : حَارِثَةُ ، فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا حَارِثَةُ ؟ " قَالَ : أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا . قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ إِيمَانٍ حَقِيقَةً ، فَمَا حَقِيقَةُ إِيمَانِكَ ؟ " قَالَ : عَزَفَتْ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا ، فَأَظْمَأْتُ نَهَارِي ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلِي ، وَكَأَنِّي بِعَرْشِ رَبِّي بَارِزًا ، وَكَأَنِّي بِأَهْلِ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ يَتَنَعَّمُونَ فِيهَا ، وَكَأَنِّي بِأَهْلِ النَّارِ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَصَبْتَ فَالْزَمْ ، مُؤْمِنٌ نَوَّرَ اللَّهُ قَلْبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات مدینہ منورہ کی کسی گلی میں ، ایک صاحب سے ہوئی ، جن کا نام حارثہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ہے : اے حارثہ ! تم نے کس حال میں صبح کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے حقیقی مومن ہونے کے عالم میں صبح کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر ایمان کی کوئی حقیقت ہوتی ہے ، تو تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرا من دنیا سے اچاٹ ہو گیا ہے ، تو میں دن میں پیاسا رہتا ہوں اور رات میں جاگتا رہتا ہوں ، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے پروردگار کا عرش میرے سامنے ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اہل جنت کو ، جنت میں نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ، اور اہل جہنم کو ، جہنم میں عذاب کا شکار ہوتے دیکھ رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ٹھیک ہو ! اس کا دھیان رکھنا ، ( تم ایک ایسے ) مؤمن ہو ، جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے نور عطا کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، جس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 190
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 32»