حدیث نمبر: 1894
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ فَسَمِعَ قَائِلًا يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْوَةُ الْحَقِّ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَرَجَ صَاحِبُهَا مِنَ النَّارِ " ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِدُونَ هَذَا صَاحِبَ مِعْزًى أَوْ صَاحِبَ كِلَابٍ يَتَصَيَّدُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حِبَّانَ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : رُبَّمَا خَالَفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے آپ نے کسی شخص کو اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا ( یعنی اذان دیتے ہوئے سنا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حق کی دعوت ہے ، اس نے کہا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اخلاص کا کلمہ ہے ، اس نے پڑھا اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہنے والا شخص جہنم سے نکل گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کو پاؤ گے یہ الگ تھلگ رہ رہا ہو گا یا یہ کتوں والا شخص ہو گا ، جو شکار کر رہا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حبان ہے ، جسے امام ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ یہ بعض اوقات دوسروں کے برخلاف روایت نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1894
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں موسیٰ بن محمد بن حبان کی وجہ سے ضعف ہے جبکہ بقیہ رجال ثقہ ہیں۔