مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الدُّعَاءِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنا
حدیث نمبر: 1885
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ; فَادْعُوا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلِهِ : " فَادْعُوا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ : " مُسْتَجَابٌ " . وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ أَيْضًا . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خبردار ! اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا مسترد نہیں ہوتی ہے ، تو تم لوگ ( اس مخصوص وقت میں ) دعا کرو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” تم لوگ دعا کرو“ ۔
یہ روایت امام ابویعلی نے نقل کی ہے اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” مستجاب ہوتی ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں بھی یزید رقاشی نامی راوی ہے ۔