حدیث نمبر: 18776
وَفِي رِوَايَةٍ : " كَفَّارَةُ الْمَجْلِسِ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَقُولَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، تُبْ عَلَيَّ وَاغْفِرْ لِي ، يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنْ كَانَ فِي مَجْلِسِ لَغَطٍ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ ، وَإِنْ كَانَ مَجْلِسَ ذِكْرٍ كَانَ طَابَعًا عَلَيْهِ " . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طُرُقُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْأَذْكَارِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” محفل کا کفارہ یہ ہے کہ آدمی اُٹھنے سے پہلے یہ کلمات پڑھ لے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو میری توبہ قبول کر لے اور میری مغفرت کر دے ۔ “ آدمی تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے ، اگر وہ لغویات کی محفل ہو گی ، تو یہ ( کلمات ) اُس کے لئے کفارہ بن جائیں گے ، اور اگر وہ ذکر کی محفل ہو گی تو یہ ( کلمات ) اس پر مہر بن جائیں گے ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق ” کتاب الاذکار“ میں گزر چکے ہیں ۔

خَاتِمَةُ الْكِتَابِ . ¤ كَمُلَ وَتَمَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمَنُّ وَالْفَضْلُ ، وَنَسْأَلَ اللَّهَ النَّفْعَ بِهِ لِي وَلِلْمُسْلِمِينَ فِي خَيْرٍ وَعَافِيَةٍ آمِينَ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيًرا . آمِينَ . فِي طِيبَةِ الطِّيبَةِ مُصَلِّيًا مُسْلِمًا حَامِدًا عَلَى صَاحِبَهَا أَفْضَلَ الصَّلَوَاتِ وَأَكْمَلَ التَّحَيَّاتِ أَوَّلًا وَآخِرًا ظَاهِرًا وَبَاطِنًا . الْحَمْدُ لِلَّهِ أَرْحَمِ الرَّاحِمِينَ . ¤ هَذَا الْجُزْءُ وَمَا قَبْلَهُ اسْتَقَرَّ عَلَى مِلْكِ الْمُقِرِّ الْأَشْرَفِ ، الْعَالِمِيِّ الْعَامِلِيِّ ، الْوَحِيدِيِّ الْفَرِيدِيِّ ، الْفَتْحِيِّ : فَتْحِ اللَّهِ كَاتِبِ السِّرِّ الْمَلَكِيِّ النَّاصِرِيِّ أَعَزَّ اللَّهُ تَعَالَى أَنْصَارَهُ ، وَخَتَمَ بِالصَّالِحَاتِ أَعْمَالَهُ ، وَبَلَّغَهُ مِنْ رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - آمَالَهُ ، وَحَسَّنَ عَاقِبَتَهُ وَمَآلَهُ ، يَا مَنْ لَا حُكْمَ فِي الْوُجُودِ إِلَّا لَهُ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى الشَّفِيعِ فِي الْعُصَاةِ ، نَبِيٍّ يَخِرُّ سَاجِدًا لِمَوْلَاهُ ، وَيَسْأَلُهُ فَيُجِيبُ الرَّحْمَنُ سُؤَالَهُ اهـ . ¤
محمد محی الدین

کتاب کا خاتمہ (اختتام) ۔
ان شاء اللہ تعالیٰ (یہ کتاب) مکمل و تمام ہوئی ، اور تمام تر تعریف ، احسان اور فضل اللہ ہی کے لیے ہے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ وہ خیر و عافیت کے ساتھ میرے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اس کے ذریعے نفع پہنچائے ، آمین ۔ اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی تمام آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام نازل فرمائے اور بکثرت سلامتی بھیجے ۔ آمین ۔ (یہ خاتمہ تحریر ہوا) طیبہ طاہرہ (مدینہ منورہ) میں ، اس شہر کے صاحب (سردارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اول و آخر ، ظاہر و باطن سب سے افضل درود اور مکمل ترین سلام و حمد بھیجتے ہوئے ۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ۔
یہ جلد (جزو) اور اس سے قبل کے اجزاء ، معزز و محترم ، عالم و باعمل ، یگانہ و یکتا ، فتحی : فتح اللہ (جو بادشاہِ ناصر کے شاہی سیکرٹری / کاتبِ سر ہیں) کی ملکیت میں استوار و منتقل ہوئے ؛ اللہ تعالیٰ ان کے اعوان و انصار کو عزت دے ، ان کے اعمال کا خاتمہ نیک کاموں پر فرمائے ، اور ان کے رب عزوجل کی طرف سے ان کی تمام امیدیں پوری کرے ، اور ان کے انجام و ٹھکانے کو عمدہ بنائے ؛ اے وہ ذات کہ کائنات میں جس کے سوا کسی کا حکم و حاکمیت نہیں ! اور اللہ تعالیٰ گناہ گاروں کی شفاعت کرنے والے ان نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرمائے جو اپنے مولا کے سامنے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اس سے التجا کرتے ہیں تو رحمان ان کا سوال و دعا قبول فرماتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18776
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح