حدیث نمبر: 18736
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : وَقَامَ آخَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، أَخَلْقٌ يُخْلَقُ أَمْ نَسْجٌ يُنْسَجُ ؟ فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِمَّ تَضْحَكُونَ ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا أَيْنَ السَّائِلُ ؟ ؟ " . قَالَ : " أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ " . قَالَ : " تَنْشَقُّ عَنْهَا ثِمَارُ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اہل جنت کے کپڑوں کے بارے میں بتائیے ، کیا یہ بنائے جا چکے ہیں ؟ یا یہ بنے جائیں گے ؟ تو حاضرین میں سے کچھ لوگ ہنس پڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کس بات پر ہنسے ہو ؟ ایک جاہل کے عالم سے سوال کرنے پر ؟ سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا: میں یہاں ہوں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت کے پھل ان میں سے نکلیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18736
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3521) اخرجه احمد فى المسند (203/2)»