مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا أَعَدَّهُ اللَّهُ - سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى - لِأَهْلِ الْجَنَّةِ . باب: اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لئے کیا تیار کیا ہے ؟ اس کا تذکرہ
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَسْمَعُكَ تَذْكُرُ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً لَا أَعْلَمُ أَكْثَرَ شَوْكًا مِنْهَا - يَعْنِي الطَّلْحَ - . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَةٍ مِنْهَا خَصْوَةَ التَّيْسِ الْمَلْبُودِ - يَعْنِي الْخَصِيَّ - مِنْهَا سَبْعُونَ لَوْنًا مِنَ الطَّعَامِ ، لَا يُشْبِهُ لَوْنٌ آخَرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عقبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک دیہاتی آ گیا ۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو جنت میں ایک درخت کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اور میرے علم کے مطابق کسی اور درخت میں اس سے زیادہ کانٹے نہیں ہوتے ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ” طلح “ ( نامی کانٹے دار درخت ) تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے ہر ایک کانٹے کی جگہ اس پر ، ایسا پھل لگا دے گا جو نر جانور کے ایسے خصیوں جیسا ہو گا جن پر بال موجود ہوں ، اس ( پھل ) میں 70 مختلف قسم کے کھانے کی چیز ( یا ذائقہ ) ہو گا ، جن میں سے ہر ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔