حدیث نمبر: 18727
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَا حَوْضُكَ الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْهُ ؟ قَالَ : " كَمَا بَيْنَ الْبَيْضَاءِ إِلَى بُصْرَى ، يُمِدُّنِي اللَّهُ فِيهِ بِكُرَاعٍ ، لَا يَدْرِي إِنْسَانٌ [ مِمَّنْ ] خُلِقَ أَيْنَ طَرَفَاهُ ؟ " . فَكَبَّرَ عُمَرُ ، فَقَالَ : " أَمَّا الْحَوْضُ فَيَرِدُ عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَيَمُوتُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ يُورِدَنِي الْكُرَاعَ فَأَشْرَبَ مِنْهُ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، ثُمَّ يَشْفَعُ كُلُّ أَلْفٍ لِسَبْعِينَ أَلْفًا ، ثُمَّ يَحْثِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِكَفَّيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ " . فَكَبَّرَ عُمَرُ ، وَقَالَ : " إِنَّ السَّبْعِينَ الْأُولَى يُشَفِّعُهُمُ اللَّهُ فِي آبَائِهِمْ ، وَأَبْنَائِهِمْ ، وَعَشَائِرِهِمْ ، وَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَنِي اللَّهُ فِي إِحْدَى الْحَثَيَاتِ الْأَوَاخِرِ . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِيهَا فَاكِهَةٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . وَفِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى ، طَابِقُ الْفِرْدَوْسِ " ، فَقَالَ : أَيُّ شَجَرِ أَرْضِنَا تُشْبِهُ ؟ قَالَ : " لَيْسَ تُشْبِهُ شَيْئًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ ، وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ ؟ " . قَالَ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا تُشْبِهُ شَجَرَةً بِالشَّامِ تُدْعَى الْجَوْزَةَ ، تَنْبُتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ يَنْتَشِرُ أَعْلَاهَا " . ¤ قَالَ : فَمَا عُظْمُ أَصْلِهَا ؟ قَالَ : " لَوِ ارْتَحَلَتْ جَذَعَةٌ مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ لَمَا قَطَعَتْهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تَرْقُوَتُهَا هَرَمًا " . قَالَ : فِيهَا عِنَبٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : مَا عُظْمُ الْعُنْقُودِ فِيهَا ؟ . قَالَ : " مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الْأَبْقَعِ ، لَا يَنْثَنِي وَلَا يَفْتُرُ " . قَالَ : فَمَا عُظْمُ الْحَبَّةِ مِنْهُ ؟ قَالَ : " هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ عَظِيمًا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَسَلَخَ إِهَابَهَا فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ ، فَقَالَ : ادْبَغِي هَذَا ، ثُمَّ أَفْرِي لَنَا مِنْهُ ذَنُوبًا نَرْوِي [ بِهِ ] مَاشِيَتَنَا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ تُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي ؟ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَامَّةَ عَشِيرَتِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَفِي الْكَبِيرِ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمَا ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ الْبَكَالِيُّ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے کہا: وہ حوض کیا ہے ؟ جس کے بارے میں آپ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( وہ اتنا بڑا ہے ) جتنا بیضاء سے لے کر بصریٰ تک کا درمیانی فاصلہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے حوالے سے مجھ پر یہ فضل کیا کہ وہ اتنا بڑا ہے کہ آدمی یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ اس کے دونوں کنارے کہاں تخلیق ہوئے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک حوض کا تعلق ہے ، تو اس پر غریب مہاجرین آئیں گے ، جنہوں نے اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیا ہو گا اور جو اللہ کی راہ میں انتقال کر گئے ہوں گے ، مجھے یہ امید ہے اس میں آسمان سے پانی نازل ہو گا اور میں اس میں سے پیوں گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا ، اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار لوگ ، مزید ستر ہزار لوگوں کی شفاعت کریں گے ، پھر میرا پروردگار دونوں ہتھیلیاں ملا کر تین مرتبہ ( میری امت کے لوگوں کو جہنم سے نکالے گا ) ۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور یہ کہا: پہلے والے ستر ہزار لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے آباؤ اجداد ، ان کے بیٹوں اور ان کے خاندان کے افراد کے بارے میں شفاعت کرنے کی اجازت دے گا ، اور مجھے یہ امید ہے کہ وہ مجھے بعد والے تین لپوں ( یعنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر نکالنے ) میں شامل کرے گا ۔ دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا اس میں پھل ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس میں ایک درخت ہو گا جس کا نام طوبیٰ ہے اور طابق الفردوس ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : وہ ہماری زمین کے کون سے درخت کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تمہارے علاقے کے کسی درخت کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتا ، کیا تم شام گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شام میں موجود ایک درخت کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ، جس کا نام ” جوزہ “ ہے ، وہ ایک ہی تنے پر کھڑا ہوتا ہے اور پھر اس کا بالائی حصہ پھیل جاتا ہے ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : اس کی جڑ کتنی بڑی ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے گھر کا اونٹ کا بچہ ( اس کے نیچے چلنا شروع کرے ) تو وہ اس کو پار نہیں کر سکے گا ، اس سے پہلے ہی وہ بوڑھا ہو کے مر جائے گا ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : کیا جنت میں انگور ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : اس کے گچھے کتنے بڑے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک کوا ، جو مسلسل ایک ماہ تک اڑتا رہے ، اس دوران وہ وقفہ نہ کرے ۔ اس نے دریافت کیا : اس کا بیج ( یا ایک دانہ ) کتنا بڑا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے باپ نے اپنی بکریوں میں سے کوئی بڑا نر جانور ذبح کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اس نے اس جانور کی کھال اتار کر وہ تمہاری ماں کو دے دی ہو ، اور یہ کہا: ہو : تم اس کی دباغت کر کے اس کے ذریعے ڈول بنا لو ، تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے جانوروں کو پانی پلا دیا کریں ، اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: تو وہ ایک دانہ ، مجھے اور میرے اہل خانہ کو سیر کر دے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ تمہارے خاندان کے زیادہ تر افراد کو بھی ( وہ ایک دانہ سیر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، انہوں نے معجم کبیر میں اور امام أحمد نے بھی اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن بکالی ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف