مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَمَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ . باب: جنت کی صفت اور اس میں جو بھلائیاں موجود ہیں
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَنْزِلُ فِي ثَلَاثِ سَاعَاتٍ يَبْقَيْنَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَفْتَحُ الذِّكْرَ فِي السَّاعَةِ الْأُولَى لَمْ يَرَهُ غَيْرُهُ ، فَيَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ مَا يَشَاءُ ، ثُمَّ يَنْزِلُ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ إِلَى جَنَّةِ عَدْنٍ ، وَهِيَ الَّتِي لَمْ يَرَهَا غَيْرُهُ وَلَمْ تَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، لَا يَسْكُنُهَا مَعَهُ مِنْ بَنِي آدَمَ غَيْرُ ثَلَاثَةٍ : النَّبِيِّينَ ، وَالصِّدِّيقِينَ ، وَالشُّهَدَاءِ ، ثُمَّ يَقُولُ : طُوبَى لِمَنْ دَخَلَكِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زِيَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بیشک اللہ تعالیٰ رات کی تین گھڑیوں میں یقینی طور پر نزول کرتا ہے ، پہلی گھڑی میں وہ ذکر ( یعنی لوح محفوظ ) کو کھولتا ہے ، جس کو اس کے علاوہ اور کسی نے نہیں دیکھا ، اور پھر جو وہ چاہتا ہے ، اسے مٹا دیتا ہے اور جو وہ چاہتا ہے اسے برقرار رکھتا ہے ، پھر وہ دوسری گھڑی میں جنت عدن کی طرف نزول کرتا ہے اور وہ ایسی چیز ہے جسے اس کے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ، اس جنت میں پروردگار کے ساتھ اولاد آدم میں سے صرف تین قسم کے لوگ رہیں گے ، انبیاء صدیقین اور شہداء ، پھر وہ فرماتا ہے : ان لوگوں کے لئے مبارکباد ہے جو تم میں داخل ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زیادہ بن محمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔