حدیث نمبر: 18708
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، ثُمَّ يَشْفَعُ كُلُّ أَلْفٍ لِسَبْعِينَ أَلْفًا " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ طَوِيلٌ وَيَأْتِي فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عَامِرِ بْنِ زَيْدٍ الْبَكَالِيِّ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار ، ستر ہزار لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو طویل روایت ہے اور آگے چل کر جنت کی صفت سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں عامر بن زید بکالی کے حوالے سے نقل کی ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس پر کوئی جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18708
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (126/17) اخرجه احمد فى المسند (183/4)»