حدیث نمبر: 18700
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ قَالَ : صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أُنَاسٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ يَأْذَنُ لَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْغَضَ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ ؟ " . فَلَا تَرَى مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ فِي نَفْسِي بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ " وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ [ بِهِ فِي ] الْجَنَّةَ ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ يَسِيرٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رفاعہ بن عرابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آ رہے تھے ، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگنی شروع کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دینے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف والا درخت کا حصہ تم لوگوں کے نزدیک دوسرے حصے سے زیادہ ناپسندیدہ ہے ، راوی کہتے ہیں : تو سب لوگ رونے لگے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب اس کے بعد جو شخص آپ سے اجازت مانگے گا ، میرے خیال میں وہ بیوقوف ہی ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب حلف اٹھاتے تھے ، تو آپ یہ فرماتے تھے : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، تم میں سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اور پھر وہ ٹھیک رہے تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں چلایا جائے گا ، اور میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو یوں جنت میں داخل کرے گا کہ ان سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا اور مجھے یہ امید ہے کہ تم اس میں داخل نہیں ہو گے ، جب تک تم اور تمہاری ازواج اور اولاد میں سے نیک لوگ جنت میں اپنا ٹھکانہ نہیں بنا لیتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا معمولی سا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، طبرانی اور بزار کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18700
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3543) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4556) اخرجه احمد فى المسند (16/4)»