حدیث نمبر: 18698
وَعَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَجْلِسِ ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِلَى رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ يَمْشِي ، فَقَالَ : " أَيَا فُلَانُ " . قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا يُنَازِعُهُ الْكَلَامَ إِلَّا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " وَالْإِنْجِيلَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " وَالْقُرْآنَ ؟ " . قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ ، ثُمَّ نَاشَدَهُ : " هَلْ تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ ؟ " . قَالَ : نَجِدُ مَثَلَكَ ، وَمَثَلَ مَخْرَجِكَ ، وَمَثَلَ هَيْئَتِكَ ، فَكُنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ فِينَا ، فَلَمَّا خَرَجْتَ خِفْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ هُوَ ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا أَنْتَ لَسْتَ هُوَ . قَالَ : " وَلِمَ ذَاكَ ؟ " . قَالَ : مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلَا عَذَابٌ ، وَإِنَّمَا مَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ . فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَنَا هُوَ ، وَإِنَّهُمْ لَأُمَّتِي ، وَإِنَّهُمْ لَأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محفل میں موجود تھے ، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو مسجد میں چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ نے فرمایا : اے فلاں ! اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، اس نے اور کوئی بات نہیں کی ، صرف یہ کہا: یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم تورات پڑھے ہوئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : انجیل ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : قرآن ؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں چاہوں تو اسے پڑھ سکتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کیا : کیا تم تورات اور انجیل میں میرا ذکر پاتے ہو ؟ اس نے کہا: آپ کی مانند کا اور آپ کی مانند کے نکلنے کا ، اور آپ کی مانند ہیئت کا ذکر پاتے ہیں ، ہمیں یہ امید تھی کہ وہ آخری نبی ہم میں سے ہوں گے ، لیکن جب آپ کا ظہور ہوا تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ وہ نہ ہوں ، جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو یہ بات سامنے آئی کہ آپ وہ نہیں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اُس نے کہا: اُن ( آخری نبی ) کے ہمراہ ان کی امت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے ، جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور جنہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا ، اور آپ کے ساتھ تھوڑے سے لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ میں ہی ہوں اور وہ لوگ میری امت ہوں گے ، اور وہ لوگ ستر ہزار اور مزید ( 10 ) ( 7 ) ہزار سے بھی زیادہ تعداد میں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18698
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3544)»