مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
حدیث نمبر: 1869
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ كَمَا يَقُولُ ، فَإِذَا قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا رَوَى عَنْهُ . ¤محمد محی الدین
عبداللہ بن حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو سنتے تھے تو اس کی مانند کلمات پڑھتے تھے ، جو وہ پڑھتا تھا جب وہ حَىٰ عَلَى الصَّلَاةِ اور حی علی الفلاح پڑھتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «لَا حَوْلَ وَلَا قوَةَ إِلَّا بِاللَّهُ پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، تاہم امام مالک نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔