حدیث نمبر: 18684
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاذَا رَدَّ عَلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ ؟ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِضَاضِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي ، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا ، يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ ، وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : شفاعت کے بارے میں آپ کا پروردگار آپ کو کیا جواب دے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مجھے یہ اندازہ تھا کہ میری امت میں سے ، تم سب سے پہلے مجھ سے اس بارے میں سوال کرو گے ، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ تمہیں علم کے حصول کی شدید خواہش ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، ان کا جنت کے دروازوں پر ہجوم میرے نزدیک میری شفاعت سے زیادہ اہم نہیں ہے اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہو گی ، جو اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اس کا دل ، اس کی زبان کی تصدیق کرے اور اس کی زبان ، اس کے دل کی تصدیق کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معاویہ بن معتب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (8056)»