مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كَثْرَةِ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے ، جنت میں داخل ہونے والوں کی کثرت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَنْتُمْ وَرُبْعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ لَكُمْ رُبْعُهَا وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِهَا ؟ " . فَقُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثُهَا ؟ " . قَالُوا : فَذَاكَ أَكْثَرُ [ قَالَ : " فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَالشِّطْرُ ؟ " قَالُوا : فَذَلِكَ أَكْثَرُ ] . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ، أَنْتُمْ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حُصَيْرَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” اہل جنت کا چوتھا حصہ ہونے پر تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ تمہیں اس کا ایک چوتھائی مل جائے ، اور باقی سب لوگوں کو اس کا تین چوتھائی ملے ، ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا ایک تہائی ہونے پر تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ تو بہت زیادہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نصف ہونے پر تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ تو بہت زیادہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور ان میں سے تمہاری اسّی صفیں ہوں گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام ابویعلیٰ نے ، امام بزار نے امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن حصیرہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔