حدیث نمبر: 18667
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ حَظًّا - أَوْ نَصِيبًا - قَوْمٌ يُخْرِجُهُمُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ فَيَرْتَاحُ لَهُمُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، فَيَبْدُونَ بِالْعَرَاءِ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَتِ الْأَرْوَاحُ فِي أَجْسَادِهِمْ قَالُوا : رَبَّنَا ، كَالَّذِي أَخْرَجْتَنَا مِنَ النَّارِ ، وَرَجَّعْتَ الْأَرْوَاحَ إِلَى أَجْسَادِنَا ، فَاصْرِفْ وُجُوهَنَا عَنِ النَّارِ " . قَالَ : " فَيَصْرِفُ وُجُوهَهُمْ عَنِ النَّارِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حصے کے اعتبار سے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، تاہم اس کا مفہوم یہی ہے ) اہل جنت میں سب سے کم مرتبہ کا مالک وہ ہو گا کہ کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ جہنم سے نکالے گا ، اللہ تعالیٰ ان پر یہ مہربانی اس لیے کرے گا کیونکہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دیتے ہوں گے ، پھر وہ یوں اُگیں گے جیسے سبزی اُگتی ہے یہاں تک کہ جب ارواح ان کے جسموں میں داخل ہو جائیں گی ، تو وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! جس طرح تو نے ہمیں جہنم سے نکال دیا ہے اور ارواح کو ہمارے جسموں کی طرف لوٹا دیا ہے ، تو تُو ہمیں جہنم کی طرف سے پھیر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اللہ تعالی ان کے چہرے جہنم سے پھیر دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3554)»