مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ . باب: اذان کیسے دی جائے گی ؟
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَيْشٍ ، فَسَرَّحْتُ ظَهْرَ أَصْحَابِي ، فَلَمَّا رُحْتُ تَلَقَّانِي أَصْحَابِي يَتَبَادَرُونَ وَيَقُولُونَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّمُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لشکر میں تھا میں اپنے ساتھیوں کے جانوروں کو آرام کروا رہا تھا جب میں روانہ ہوا تو میرے ساتھی مجھے آ کے ملے وہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے ، اور یہ کہہ رہے تھے کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ اسی دوران مؤذن نے اذان دینی شروع کی تو اس نے یہ کلمات پڑھے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے - یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے زہری نامی راوی نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔