مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ شَفَاعَةِ الصَّالِحِينَ . باب: نیک لوگوں کا شفاعت کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ النَّارِ ، فَيُنَادِيهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ : يَا فُلَانُ ، أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، مَا أَعْرِفُكَ مَنْ أَنْتَ وَيْحَكَ ؟ ! قَالَ : أَنَا الَّذِي مَرَرْتُ بِكَ فِي الدُّنْيَا فَاسْتَسْقَيْتَنِي شَرْبَةَ [ مَاءٍ ] فَسَقَيْتُكَ فَاشْفَعْ لِي بِهَا عِنْدَ رَبِّكَ " . ¤ قَالَ : " فَدَخَلَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى رَبِّهِ فِي دَوْرِهِ فَقَالَ : يَا رَبِّ ، إِنِّي أَشْرَفْتُ عَلَى [ أَهْلِ ] النَّارِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَنَادَى : يَا فُلَانُ ، أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، لَا أَعْرِفُكَ وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الَّذِي مَرَرْتَ بِي فِي الدُّنْيَا فَاسْتَسْقَيْتَنِي فَسَقَيْتُكَ ، فَاشْفَعْ لِي بِهَا عِنْدَ رَبِّكَ ، فَشَفِّعْنِي يَا رَبِّ فِيهِ " . قَالَ : " فَشَفَّعَهُ اللَّهُ فِيهِ ، وَأَخْرَجَهُ مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو عَلِيِّ بْنُ أَبِي سَارَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جھانک کر اہل جہنم کی طرف دیکھے گا ، تو اہل جہنم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص پکار کر اسے کہے گا : اے فلاں ! کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ جنتی کہے گا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! میں تمہیں نہیں پہچانا ، تم کون ہو ؟ تمہارا ستیاناس ہو ! وہ کہے گا : میں وہ شخص ہوں ، جو دنیا میں تمہارے پاس سے گزرا تھا ، تو تم نے مجھ سے پینے کے لئے پانی مانگا تھا ، تو میں نے تمہیں پلا دیا تھا ، اس کی وجہ سے تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں میری شفاعت کرو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : وہ ( جنتی ) شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا جہاں اور بھی لوگ موجود ہوں گے ، وہ کہے گا : اے پروردگار ! میں نے اہل جہنم کی طرف جھانک کر دیکھا ، تو اہل جہنم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پکار کر کہا: اے فلاں ! کیا تم مجھے پہچانتے نہیں ہو ؟ میں نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! میں نے تمہیں نہیں پہچانا ، تم کون ہو ؟ اس نے کہا: میں وہ شخص ہوں کہ تم دنیا میں میرے پاس سے گزرے تھے اور تم نے مجھ سے پینے کے لیے مانگا تھا تو میں نے تمہیں پلایا تھا ، تو اب اس کی وجہ سے تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں میری شفاعت کرو ، تو اے میرے پروردگار ! اس کے بارے میں ، تو میری شفاعت قبول فرما لے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اللہ تعالیٰ اس ( جہنمی ) کے بارے میں اس ( جنتی ) کی شفاعت قبول کرے گا اور اُسے جہنم سے نکال دے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے اور وہ متروک ہے ۔