مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ شَفَاعَةِ الصَّالِحِينَ . باب: نیک لوگوں کا شفاعت کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَلَكَ رَجُلَانِ مَفَازَةً ، أَحَدُهُمَا عَابِدٌ ، وَالْآخَرُ بِهِ رَهَقٌ ، فَعَطِشَ الْعَابِدُ حَتَّى سَقَطَ ، فَجَعَلَ صَاحِبُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ [ وَمَعَهُ مِيضَأَةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، فَيَجْعَلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ] ، وَهُوَ صَرِيعٌ فَقَالَ : وَاللَّهِ، لَئِنْ مَاتَ هَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ عَطَشًا وَمَعِي مَاءٌ لَا أُصِيبُ مِنَ اللَّهِ خَيْرًا [ أَبَدًا ] ، وَإِنْ سَقَيْتُهُ مَائِي لَأَمُوتَنَّ، فَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ ، وَعَزَمَ وَرَشَّ عَلَيْهِ مِنْ مَائِهِ وَسَقَاهُ مِنْ فَضْلِهِ " . ¤ قَالَ : " فَقَامَ حَتَّى قَطَعَ الْمَفَازَةَ " . قَالَ : " فَيُوقَفُ الَّذِي بِهِ رَهَقٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِلْحِسَابِ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ فَتَسُوقُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَيَرَى الْعَابِدَ، فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ ، أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ " قَالَ : " فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا فُلَانٌ الَّذِي آثَرْتُكَ عَلَى نَفْسِي يَوْمَ الْمَفَازَةِ " . قَالَ : " فَيَقُولُ : بَلَى . أَعْرِفُكَ " . قَالَ : " فَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ : قِفُوا ، وَيَجِيءُ حَتَّى يَقِفَ وَيَدْعُوَ رَبَّهُ فَيَقُولَ : يَا رَبِّ ، قَدْ تَعْرِفُ يَدَهُ عِنْدِي ، وَكَيْفَ آثَرَنِي عَلَى نَفْسِهِ ، يَا رَبِّ، هَبْهُ لِي " . قَالَ : " فَيَقُولُ : هُوَ لَكَ، وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيِّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دو آدمی ایک ویرانے سے گزر رہے تھے ، ان دونوں میں سے ایک عبادت گزار تھا اور دوسرا گناہ گار تھا ، عبادت گزار کو شدید پیاس محسوس ہوئی ، یہاں تک کہ وہ گر گیا ، اس کے ساتھی نے اس کی طرف دیکھا اس کے ساتھی کے پاس ایک مشکیزہ تھا ، جس میں کچھ پانی موجود تھا ، وہ ساتھی اس کی طرف دیکھنے لگا کہ وہ گرا ہوا ہے ، اُس نے سوچا : اللہ کی قسم ! اگر یہ نیک آدمی پیاس کی وجہ سے مر گیا اور میرے پاس پانی ہوا تو مجھے اللہ تعالی کی طرف سے کبھی کوئی بھلائی نصیب نہیں ہو گی ، لیکن اگر میں نے اپنا پانی پلا دیا ، تو میں مر جاؤں گا ، اس نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، پختہ ارادہ کیا اور اُس ( عبادت گزار ) پر اپنا پانی چھڑکا اور اسے بچا ہوا پانی پلا دیا ، وہ عبادت گزار اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے وہ ویرانہ عبور کر لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اُس گناہگار کو حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا اور پھر اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا ، فرشتے اسے لے کے چل پڑیں گے ، وہ اس عبادت گزار کو دیکھے گا اور کہے گا : اے فلاں ! کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ وہ دریافت کرے گا : تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گا : میں وہ فلاں شخص ہوں ، جس نے ویرانے سے گزرنے کے موقع پر تمہارے لیے ایثار کیا تھا ، تو وہ کہے گا : جی ہاں ! میں نے تمہیں پہچان لیا ہے ، پھر وہ فرشتوں سے کہے گا : تم ٹھہر جاؤ ! وہ وہاں ٹھہر جائے گا ، وہ ( عبادت گزار ) آئے گا اور کھڑا ہو کر اپنے پروردگار سے دعا کرنا شروع کرے گا اور کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو جانتا ہے اس نے مجھ پر جو احسان کیا تھا اور کیسے میرے لیے ایثار کیا تھا ؟ اے میرے پروردگار ! اس کو مجھے ہبہ کر دے ، تو پروردگار فرمائے گا : وہ تمہارا ہوا ! ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو وہ عبادت گزار آئے گا اور اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کروا دے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوظلال قسملی کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔