حدیث نمبر: 1855
وَعَنْ سَعْدٍ الْقَرَظِ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ مَثْنَى مَثْنَى ، وَيَتَشَهَّدُ مُضَعَّفًا ، يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَرَّتَيْنِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَرَّتَيْنِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، مَرَّتَيْنِ ، مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ فَيَقُولُ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ فَيَقُولُ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . وَإِقَامَتُهُ مُنْفَرِدَةٌ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، مَرَّةً وَاحِدَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَيْضًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ : كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْإِقَامَةُ مُنْفَرِدَةٌ فَقَطْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد القرظ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان میں کلمات دو دو مرتبہ ادا کرتے تھے ، اور شہادت کے کلمات مزید دگنے کر لیتے تھے وہ قبلہ کی طرف رُخ کر کے یہ کہتے تھے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ دو مرتبہ یہ پڑھتے تھے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں وہ یہ کلمات بھی دو مرتبہ پڑھتے تھے پھر وہ ترجیع کرتے تھے ، اور اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله دو مرتبہ پڑھتے تھے ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ دو مرتبہ پڑھتے تھے انہوں نے قبلہ کی طرف رُخ کیا ہوتا تھا پھر وہ زرا دائیں طرف پھر جاتے تھے ، اور یہ کہتے تھے : حَى عَلَى الصَّلَاةِ یہ دو مرتبہ کہتے تھے پھر وہ بائیں طرف گھوم جاتے تھے ، اور حَيَّ عَلَى الفلاح دو مرتبہ کہتے تھے پھر وہ قبلہ کی طرف رُخ کر کے اللہ اكبر اللهَ اكْبَر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ پڑھتے تھے اقامت کے کلمات وہ الگ الگ ادا کرتے تھے ، اور قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ایک مرتبہ کہتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں بھی ایک راوی عبدالرحمن بن عمار بن سعد ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس صحابی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات صرف ایک ایک مرتبہ پڑھتے تھے “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کی اصل صحیحین