حدیث نمبر: 18544
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَمَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُولُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک شخص جو نبی نہیں ہو گا ، اُس کی شفاعت کی وجہ سے دو قبیلوں ربیعہ اور مضر کی تعداد میں لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ربیعہ ، مضر کا حصہ نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جیسا میں نے کہا: ہے ، ویسا ہی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال اور طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن میسرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (257/5)»