مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَوَّلِ مَنْ يُشْفَعُ لَهُمْ . باب: سب سے پہلے کن کی شفاعت ہو گی ؟
حدیث نمبر: 18538
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ مِنْ أُمَّتِي أَهْلُ بَيْتِي ، ثُمَّ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ ، ثُمَّ مَنْ آمَنَ بِي ، وَاتَّبَعَنِي مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، ثُمَّ مِنْ سَائِرِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ الْأَعَاجِمُ ، وَأَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ أُولُو الْفَضْلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنی امت میں سے ، میں سب سے پہلے جن کی شفاعت کروں گا وہ میرے اہل بیت ہیں اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ہیں ، جن کا تعلق قریش اور انصار سے ہے ، پھر وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر ایمان لائے اور جنہوں نے میری پیروی کی ، جن کا تعلق اہل یمن سے ہے ، پھر باقی تمام عربوں کی ، پھر عجمیوں کی اور سب سے پہلے میں فضیلت والے لوگوں کی شفاعت کروں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔