مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات

بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: شفاعت کا مزید بیان

حدیث نمبر: 18520
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ ; لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَأُ ، تَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ ؟ لَا . وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ الْخَطَّائِينَ " . ¤ قَالَ زِيَادٌ : أَمَا إِنَّهَا نَحْنُ وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ لِلْمُؤْمِنِينَ الْمُتَّقِينَ ، وَلَكِنَّهَا لِلْمُذْنِبِينَ الْخَطَّائِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ النُّعْمَانِ بْنِ قُرَادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے شفاعت اور اس بات کے درمیان اختیار دیا گیا کہ میری امت کا نصف ( حصہ ) جنت میں داخل ہو جائے ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، کیونکہ وہ زیادہ عمومی اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے ، کیا تم اس کے بارے میں یہ سمجھتے ہو ؟ کہ وہ صاف ستھرے ( یعنی پرہیزگار ) لوگوں کے لیے ہو گی ؟ جی نہیں ! بلکہ وہ یعنی گناہوں میں ملوث ہونے والے خطاکاروں کے لیے ہو گی ۔ “ زیاد کہتے ہیں : اگرچہ ہم ایسے ہیں لیکن جس نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے اس نے ہمیں یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” پرہیزگار مومنین کے لئے نہیں ہو گی بلکہ یہ گناہ گاروں خطاکاروں اور ( برائیوں میں ) ملوث ہونے والے لوگوں کے لیے ہو گی ۔ “ طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعمان بن قراد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18520
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5452)»