مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات

بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: شفاعت کا مزید بیان

حدیث نمبر: 18515
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، وَلَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ فَأَوَّلُ مَنْ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - يَتَكَلَّمُ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ : " لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ ، وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، وَمِنْكَ وَإِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، سُبْحَانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ " . فَهَذَا قَوْلُهُ : " عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا ، کوئی شخص کلام نہیں کر سکے گا ، سب سے پہلے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کلام کریں گے اور وہ یہ کہیں گے : ” میں حاضر ہوں ، سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہوتی ہے ، بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے ، برائی تیری طرف نہیں جا سکتی ، ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو نے ہدایت عطا کی ہو ، تیرا بندہ تیرے سامنے ہے ، تیری مدد سے ہے ، تیری طرف لوٹنے والا ہے ، تیرے مقابلے میں کوئی پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں ہے ، صرف تیری ہی ذات ہے ، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، گھر ( یعنی خانہ کعبہ ) کے پروردگار ! “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کرے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18515
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ولکن موقوف،
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3462)»