مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَوْضِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کے حوض ( کوثر ) کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَرْضُهُ ؟ قَالَ : " مَا بَيْنَ أَيْلَةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - إِلَى مَكَّةَ ، فِيهِ مَكَاكِيُّ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ ، لَا يَتَنَاوَلُ مُؤْمِنٌ مِنْهَا فَيَضَعُهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ آخَرُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، قَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ : يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا بَيَّنَ السَّمَاعَ مِنْ ثِقَةٍ ، وَدُونَهُ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور میں دوسری امتوں کے مقابلے میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا ، تو تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو ۔ “ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ( حوض ) کا حجم کتنا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جتنا ” ایلہ “ سے لے کر ” مکہ “ تک کا درمیانی فاصلہ ہے ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہوں گے ، مؤمن ان میں سے کوئی برتن پکڑے گا اور پھر وہ اسے رکھے گا نہیں کہ اس سے پہلے کوئی دوسرا اسے پکڑ لے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن اسود ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے کتاب الثقات میں یہ بات بیان کی ہے : اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا ، جب یہ کسی ثقہ راوی سے سماع کی وضاحت کر دے ، اور اس کے بعد والا راوی بھی ثقہ ہو ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔