حدیث نمبر: 18455
وَعَنْ يُحَنِّسَ : أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ فَهْدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزُورُ حَمْزَةَ فِي بَيْتِهَا ، وَكَانَتْ تُحَدِّثُ عَنْهُ [ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] أَحَادِيثَ ، قَالَتْ : فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَوْضًا مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ . وَأَحَبُّ النَّاسِ عِنْدِي أَنْ يَرْوَى مِنْهُ قَوْمُكِ " . قَالَ : فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ بُرْمَةً فِيهَا خُبْزَةٌ أَوْ حَرِيزَةٌ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فِي الْبُرْمَةِ لِيَأْكُلَ فَأَحْرَقَتْ أَصَابِعَهُ ، فَقَالَ : " حَسِّ " . ثُمَّ قَالَ : " ابْنُ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ الْبَرْدُ قَالَ : حَسِّ ، وَإِنْ أَصَابَهُ الْحَرُّ قَالَ : حَسِّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَ : " وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ - أَوْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ - إِلَيَّ أَنْ يَرِدَهُ " . وَقَالَ فِيهِ : فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ عَصِيدَةً . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

یحنس بیان کرتے ہیں : سیدنا حمزه بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے سیدہ خولہ بنت قیس بن فہد انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی ، جو بنو نجار سے تعلق رکھتی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے گھر ان سے ملنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے ، تو اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث روایت کی ہیں ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بارے میں مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ نے یہ بات بیان کی ہے : قیامت کے دن آپ کا ایک حوض ہو گا جو فلاں جگہ سے لے کر فلاں جگہ جتنا بڑا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور میرے نزدیک اس میں سے سیراب ہونے کے حوالے سے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہنڈیا پیش کی ، جس میں خبزہ یا خزیرہ نامی سالن تھا ۔ یہ شک راوی کو ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک ہنڈیا پر رکھا تاکہ کھائیں ، تو آپ کی انگلیاں جل گئیں ، آپ نے فرمایا : اوہ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انسان کو جب کوئی چیز ٹھنڈی لگتی ہے تو وہ پھر بھی وہ کہتا ہے ” اوہ “ جب اسے گرم چیز لگتی ہے تو پھر بھی وہ ” اوہ “ کہتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اسے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : آپ نے فرمایا : ” میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : اس پر وارد ہونے کے حوالے سے لوگوں میں میرے نزدیک محبوب ترین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” عصیدہ “ پیش کیا ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (231/24) اخرجه احمد فى المسند (410/6)»