مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَوْضِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کے حوض ( کوثر ) کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِي نَهْرًا مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى أَيْلَةَ ، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ آنِيَةٌ ، وَهُوَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ، وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ لَمْ يَرْوَ أَبَدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری ایک نہر ہے ( یعنی حوض ہے جو اتنا بڑا ہے ) جتنا ” صنعاء “ اور ” ایلہ “ کے درمیان فاصلہ ہے ، اس میں ستاروں کی تعداد جتنے برتن ہیں ( اس کا مشروب ) برف سے زیادہ ٹھنڈا ہو گا ، شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ، دودھ سے زیادہ سفید ہو گا ، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی اور جو شخص اس میں سے نہیں پی سکے گا وہ کبھی سیراب نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔