مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَوْضِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی اکرم ﷺ کے حوض ( کوثر ) کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قَدْ أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْكَوْثَرُ ؟ قَالَ : " نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ عَرْضُهُ وَطُولُهُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، لَا يَشْرَبُ مِنْهُ أَحَدٌ فَيَظْمَأُ ، وَلَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ أَحَدٌ فَيَشْعَثُ ، لَا يَشْرَبُهُ مَنْ أَخَفَرَ ذِمَّتِي وَلَا قَتَلَ أَهْلَ بَيْتِي . قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْكَوْثَرِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَعَطِيَّةُ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے ( حوض ) کوثر عطا کر دیا گیا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کوثر کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ایک نہر ہے جس کی چوڑائی اور لمبائی اتنی ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے ، اس میں سے جو شخص پی لے گا وہ بعد میں کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور اس میں سے جو شخص وضو کر لے گا وہ بعد میں کبھی میلا نہیں ہو گا ، لیکن اسے کوئی ایسا شخص نہیں پیے گا ، جس نے میری دی ہوئی پناہ کے خلاف ورزی کی ہو ، یا میرے اہل بیت کو قتل کیا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے جو حوض کوثر کے بارے میں ہے ، لیکن اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن یحیی بن مختار ہے اور وہ مجہول ہے اور ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔